اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق 20 صفحوں کی رپورٹ میں ایمنیسٹي انٹرنیشنل نے شاہی نظام کی پرامن کارکنان اور مظاہرین کی سرکوبی کرنے کی وجہ سے مذمت کی۔ اس رپورٹ میں سعودی شہری اور سیاسی حقوق کی تنظیم اےسي پي آراے کے گیارہ ارکان کے خلاف فوجداري کا مقدمہ چلائے جانے کے واقعہ کا جائزہ لیا گیا۔
اس رپورٹ میں آیا ہے کہ سعودی عرب کے حکام نے اےسي پي آراے کے بانی ارکان کو سخت کارروائی کے تحت ایک ایک کرکے نشانہ بنایا تاکہ اس تنظیم کو تحلیل اور اس کے ارکان کی آواز کو ختم کر دے اور یہ2011 سے آزادی بیان کے خلاف سرکوبانہ کارروائیوں کا حصہ ہے۔
ایمنیسٹي انٹرنیشنل نے اس رپورٹ میں سعودی عرب میں شیعہ برادری کے پرامن مظاہروں کا بھی ذکر کیا جو وہ سعودی حکومت کی جانب سے سرکوبانہ اقدامات کے باوجود اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے جدوجہد کے تحت کر رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں آیا ہے کہ انتظامیہ نے اصلاح اور سیاسی و انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا شکار ہونے والوں کی طرف سے پرامن مظاہروں کی طاقت کے ذریعے سرکوبی کی خاص طور پر اس ملک کے مشرقی صوبے میں جہاں سعودی عرب کے اقلیتی شیعہ برادری سب سے زیادہ تعداد میں رہتے ہیں۔
در ایں اثنا ایمنیسٹي انٹرنیشنل کے مشرق وسطی اور شمالی افریقی کے امور کے عہدیدار سعید نے کہا کہ سعودی عرب کے حکام نے اس ملک کی تنقید میں اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کے لئے پرامن کارکنوں کی منظم سرکوبی کے ذریعہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط بنا لی ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم بارہا سعودی حکومت کی اس ملک میں انسانی حقوق کی بدتر صورتحال کی وجہ سے مذمت کر چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے سختی سے سرکوبانہ پالیسی کا نافذ کر رکھا ہے جس سے آزادی بیان اور جلسوں کے انعقاد کی آزادی کا گلا گھٹ گیا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق اس وقت سعودی عرب کی جیلوں میں تقریبا 30 ہزار سیاسی قیدی ہیں۔
.......
/169